تعارف
مختصر سوانح حیات
مولانا محمد اسحاق فیصل آباد کے نامور عالم، محقق اور ماہر اسماء و رجال تھے۔ آپ 15 جون 1935 کو فیصل آباد کے گاؤں رڑا ٹالی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدین دیندار تھے اور آپ کی تربیت ایک دینی گھرانے میں ہوئی، جس کا اثر یہ ہوا کہ آپ بچپن سے ہی دینی علوم میں دلچسپی رکھتے تھے۔ بچپن میں ہی مولانا اسحاق دوسروں کو نماز پڑھاتے اور رہنمائی فراہم کرتے تھے۔
ابتدائی تعلیم آپ نے قریبی گاؤں دیال گڑھ کے پرائمری سکول سے حاصل کی اور ساتھ ہی مولوی نور محمد صاحب سے دینی تعلیم بھی لی۔ عربی اور فارسی میں مہارت کے ساتھ آپ کا حافظہ بے حد قوی تھا۔ بعد میں مڈل میٹرک کے لیے چک جمرہ کے ہائی سکول میں داخلہ لیا، اور راتوں کو مٹی کے دیے کی روشنی میں کتابیں پڑھ کر اپنی علمی لگن کو ظاہر کیا۔
آپ کے اساتذہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے تھے، جن میں قادیانی اور بریلوی عالم بھی شامل تھے۔ مولانا اسحاق نے صرف اور نحو میں مولانا شبیر احمد عثمانی کے شاگرد مولانا امداد الحق دیوبندی سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں آپ نے گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں داخلہ لے کر ایف اے کا امتحان پاس کیا، مگر دنیاوی تعلیم ترک کر کے دینی علوم میں پوری توجہ مرکوز کر دی۔ مختلف لائبریریوں سے مطالعہ کر کے آپ نے دینی تحقیق میں مہارت حاصل کی۔
مولانا اسحاق نے مختلف مدارس میں تدریس کی، جن میں درس آل محمد مدرسہ شامل ہے، اور وہاں فارسی و دیگر علوم کی تعلیم دی۔ آپ نے جمعہ کے خطبات اور دینی رہنمائی کے ذریعے گاؤں اور شہر کے لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا۔ آپ کا معمول تھا کہ تہجد پڑھتے اور دن بھر دینی خدمات انجام دیتے۔
مولانا اسحاق 28 اگست 2013 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ نے وصیت کی کہ جنازے پر اعلان کیا جائے کہ آپ کسی بھی کلمہ گو یا قبلہ رخ نمازی کی تکفیر نہیں کرتے۔
علمی خدمات اور میراث
مولانا اسحاق کی علمی خدمات میں فتاوی جات، دینی مقالات، تفسیر قرآن، حدیث کی تشریح، جمعہ و عید کے خطبات، اور اصلاحی بیانات شامل ہیں۔ آپ نے فرقہ واریت سے دور رہتے ہوئے وحدت امت کے اصول کو عملی طور پر دکھایا۔ اہل بیت اور صحابہ کی شان بیان کرنے میں آپ بے حد محتاط اور مہارت رکھتے تھے۔ آپ کی عملی اور اخلاقی مثال نے لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کیا۔
مولانا اسحاق جماعت اسلامی کے رکن بھی رہے اور بعد میں تحریک اسلامی میں شامل ہوئے۔ آپ کی اخلاقیات، سچائی، رحم دلی اور سخاوت بے مثال تھی؛ یتیموں، بیواؤں اور مقروضوں کی مدد کرنا آپ کی عادت تھی۔ شاگردوں کو کتابیں فراہم کرنا اور غیر مسلم مہمانوں کے ساتھ حسن سلوک بھی آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
آپ کی تعلیمات اور لیکچرز آج بھی یوٹیوب اور دیگر ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ آپ کا مقصد اسلام کا سادہ اور واضح پیغام عام کرنا اور ہر فرد کو قرآن و حدیث کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا تھا۔
ویب سائٹ کا مقصد
ہمارا مقصد مولانا اسحاقؒ کے خطبات، فتاویٰ اور دروس وغیرہ کو تخریج کے ساتھ عام کرنا ہے تاکہ اہلِ علم اور عوام الناس اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں، اور یہ ویب سائٹ دراصل مرکز مولانا اسحاق کا ایک علمی و تحقیقی منصوبہ ہے جس کا بنیادی ہدف مولانا اسحاقؒ کے علمی ورثے کی حفاظت، ترتیب، تحقیق اور اشاعت ہے تاکہ یہ مستند سرمایہ منظم انداز میں آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے؛ آپ بھی اس علمی مشن میں ہمارے ساتھ علمی، تکنیکی یا مالی تعاون کے ذریعے شامل ہو سکتے ہیں، رابطہ کرنے کے لیے براہِ کرم فوٹر میں دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں، جزاکم اللہ خیراً۔