اعتکاف کا وقت
#5اعتکاف پر بیٹھنے اور اٹھنے کا صحیح وقت کونسا ہے؟ نیز اعتکاف کی روح کیا ہے؟
اعتکاف پر بیٹھنے کا صحیح وقت بیسویں روزے کی فجر ہے۔ بعض لوگ اکیسویں کی فجر یا بیسویں کا سورج غروب ہونے سے پہلے بیٹھنے کے قائل ہیں لیکن یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھ کر اپنے معتکف میں چلے جاتے۔ اس سے بیس اور اکیس دونوں کا جواز نکلتا ہے لیکن چونکہ اکیسویں کی فجر پڑھ کر جو بندہ بیٹھے گا وہ اکیسویں رات کو تو گنوا دے گا، اگر لیلۃ القدر اسی رات ہوئ تو اور زیادہ نقصان ہے۔ اسلیے زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ بیسویں روزے کی سحری کر کے اپنے معتکف میں آجاۓ۔ اور اٹھنے کا بھی صحیح وقت بہتر تو یہی ہے کہ چاند رات بھی مسجد میں گزارے اور عید پڑھ کے اپنے اہل و عیال کے پاس جاۓ، لیکن اگر چاند نظر آتے ہی اٹھ گیا تو بھی درست ہے۔ باقی اعتکاف کی روح یہی ہے کہ گویا غلام اپنے آقا کے در پہ آکر بیٹھ گیا ہو اور جب تک معافی نہیں مل جاتی تب تک نہ اٹھے۔ واللہ اعلم
فی الصحیح البخاری:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانٍ، وَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ دَخَلَ مَكَانَهُ الَّذِي اعْتَكَفَ فِيهِ۔۔۔
[صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2041]
مولانا خلیل احمد سھارنپوری بذل المجھود میں بیسویں کی عصر کے بعد بیٹھنے پر جو ترک سنت لازم آتا ہے اس کے جواب میں فرماتے ہیں:
يحمل الحديث على أنه كان يفعل ذلك في يوم العشرين، ليستظهر ببياض يوم زيادة قبل العشر۔ قلت: وهذا الجواب هو الذي يفيده النظر في أحاديث الباب فهو أولى، وبالاعتماد أحرى۔
(کتاب الصیام باب الاعتکاف)
امام ابن قدامہ المغنی میں اعتکاف سے اٹھنے کے وقت کے بارے میں فرماتے ہیں:
ومن اعتكف العشر الأواخر من رمضان، استحب أن يبيت ليلة العيد فى معتكفه. نص عليه أحمد. وروى عن النخعى، وأبى مجلز، وأبى بكر بن عبد الرحمن، والمطلب ابن حنطب۔۔وقال إبراهيم: كانوا يحبون لمن اعتكف العشر الأواخر من رمضان، أن يبيت ليلة الفطر فى المسجد، ثم يغدو إلى المصلى من المسجد۔
(کتاب الاعتکاف مسئلہ من نذر ان یعتکف)