اشرف المخلوقات کون ہے؟
#7کیا یہ بات درست ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے؟
یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی تمام مخلوقات سے افضل بنایا ہے۔ لیکن اگر اس بات کی تہ تک پہنچا جاۓ تو قرآن پاک میں کثیر کا لفظ آتا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوقات پر نہیں بلکہ اکثر مخلوقات پر انسان کو فضیلت دی ہے۔ اور بہت سے علماء ٹھوس دلائل کی بنا پر یہ کہتے ہیں کہ فرشتے انسانوں سے افضل ہیں۔ اور بالکل میرا مؤقف بھی یہی ہے کیونکہ نبی علیہ السلام سے مروی حدیث میں آتا ہے کہ جب بندہ اللہ کا ذکر محفل میں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہتر مجلس (فرشتوں کی) میں اس کا ذکر کرتا ہے۔ اور اسی طرح جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو ممنوعہ درخت سے پھل کھانے کا لالچ دیا تو کہا کہ تمہارے رب نے تو اسلیے روکا ہے کہ تم کہیں فرشتے نہ بن جاؤ، ظاہر بات ہے کہ آدم علیہ السلام فرشتوں کو افضل سمجھتے تھے تو ابلیس نے یہ لالچ دیا۔ واللہ اعلم
فی القرآن الکریم:
وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ
(سورہ الاعراف آیۃ 20)
فی الصحیح البخاری:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:" أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً"۔
[صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7405]
وقال ابن بطال بشرح صحیح البخاری:
وقوله: (فى ملأ خير منهم) هذا نص من النبى صلى الله عليه وسلم أن الملائكة أفضل من بنى آدم، وهو مذهب جمهور أهل العلم وعلى هذا شواهد من كتاب الله۔۔۔
(باب قولہ تعالیٰ ویحذرکم اللہ نفسہ)