ارسال الیدین
#3کیا ہاتھوں کو کھلا چھوڑ کر یعنی ارسال الیدین کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے؟
سب سے پہلے یہ بات سمجھ لی جاۓ کی ہاتھوں کو نماز میں باندھنا مسنون ہے، یہ کوئ فرض، واجب یا شرط نہیں جس سے نماز میں خلل پڑے۔ اسلیے اگر کوئ ہاتھوں کو کھول کر بھی نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز بالکل درست ہے۔ باقی جو عمل بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب، تابعین یا امت کے آئمہ سے ثابت ہے اسے بدعت کہنا بہت ہی برا ہے۔ ہمیں بہت سے آثار اور اقوال ملتے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ہاتھوں کو باندھے بغیر بھی نماز پڑھنا مشروع ہے اگر چہ ہمارے نزدیک باندھنے والی احادیث قوی ہیں۔ اگر ایک صحابی نے بھی ارسال کیا ہوتا تو ہمیں کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ عبادات میں صحابی اگر رفع کی صراحت نہ بھی کرے تو بھی حجت پکڑنا درست ہے۔ اسلیے مرفوع الفاظ ڈھونڈنے لگ جانا اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا غیر شرعی عمل ہے۔ واللہ اعلم
فی المصنف لابن ابی شیبہ:
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ: "كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، إِذَا صَلَّى يُرْسِلُ يَدَيْهِ"۔
(کتاب الصلوٰت من کان یرسل یدیہ فی الصلوٰۃ)
وفی التمھید لابن عبدالبر:
فأمّا اختِلافُ الفُقَهاءِ في هذا البابِ، فذهَبَ مالكٌ، في رِوايةِ ابن القاسم عنهُ، واللَّيثُ بن سعدٍ إلى سَدْلِ اليَدَينِ في الصَّلاةِ۔۔وقال عبدُ الرَّزّاقِ: رأيتُ ابن جُريج يُصلِّي في إزارٍ ورِداءٍ مُسْدِلًا يدَيهِ، وقال الأوزاعِيُّ: من شاءَ فعلَ، ومن شاءَ تركَ. وهُو قولُ عطاءٍ۔۔ورُوِي عن الحسنِ وإبراهيمَ: أنَّهُما كانا يُرسِلانِ أيَدِيهُما في الصَّلاةِ. وليسَ هذا بخِلافٍ؛ لأنَّ الخِلافَ كراهيةُ ذلك، وقد يُرسِلُ العالِمُ يديهِ، ليُرِي النّاس أنّ ذلك ليسَ بحَتْم واجِبٍ۔
(باب العین تحت عبدالکریم بن ابی المخارق جزء 16 صفحہ 420)
امام احمد بن یحییٰ البحر الزخار میں شیعہ مجتھدین کا ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کے بارے میں قول نقل کرتے ہوۓ فرماتے ہیں:
قلنا: الکثرۃ (ز سا قین) مشروع۔۔وأما الخبر ان صح فقوی۔۔ولا معنى لقول أصحابنا ينافي الخشوع والسكون۔
ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ امام زید بن علی، احمد بن عیسی وغیرہ کے نزدیک (تقبض بالیدین) مشروع ہے۔۔ اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ثابت ہوجاۓ تو یہ مؤقف قوی ہے۔۔اور ہمارے مجتھدین میں سے جنہوں نے اسے خشوع کے خلاف کہا ہے ان کا قول درست نہیں۔
(کتاب الصلوٰۃ فصل ارکان الصلوٰۃ جلد 1 صفحہ 242، طبع دارالحکمۃ الیمانیۃ )