ایصال ثواب کا طریقہ
#9کیا میت کو ایصال ثواب کرنا جائز ہے، میں نے سنا ہے کہ مرنے کے بعد آدمی کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں۔ اگر اس کا جواز موجود ہے تو اس کا بہترین طریقہ بھی بتا دیں۔
احادیث میں یہ جو روایت آتی ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا نامہ اعمال منقطع ہوجاتا ہے، یہ بالکل صحیح ہے، لیکن اس روایت سے ایصال ثواب کی ممانعت پر استدلال کرنا درست نہیں۔ کیونکہ ایصال ثواب میت کا عمل نہیں ہوتا، بلکہ میت کے غیر کا عمل ہوتا ہے جس کا ثواب میت کو تفویض کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ایصال ثواب کے طریقے کا تعلق ہے، تو سب سے بہترین اور دل لگتی بات یہی ہے کہ میت کیلیے مغفرت کی دعا کی جاۓ اور اس کی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمانوں کیلیے مغفرت مانگتا ہے اس کے نامہ اعمال میں ہر مومن اور مومنہ کے حصہ کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ جتنے بھی طریقے ہیں خواہ وہ قرآن خوانی ہو یا دیگ پکا کر بانٹنا ہو وہ سب کی سب ظنی ہیں۔ اس مسئلہ کو بہت سے لوگ نیابت کے ساتھ خلط کردیتے ہیں جبکہ یہ بات درست نہیں۔ نیابت کے ثبوت میں کوئ شک نہیں کہ ایک بندہ زندگی میں عمل کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کرسکا تو اس کے ولی یا اور لوگ اس کی جگہ وہ عمل کریں تو اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔ لیکن یہ ایصال ثواب سے بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ نیابت میں ضروری ہے کہ بندے کی نیت ہو لیکن کسی عذر وغیرہ کی وجہ سے وہ عمل نہ کرسکے۔ اسی لیے حضرت عبادہ کی روایت میں صراحت ہے کہ ان کی والدہ صدقہ کرنا چاہتے تھیں لیکن وہ نہیں کرسکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کرنے کی اجازت دیدی۔
لیکن اگر اس پر کوئ اکتفاء نہیں کرنا چاہتا تو ایک رعایت کی حد تک میں سمجھتا ہوں کہ مالی صدقہ ایصال ثواب کرنا دوسری چیزوں سے بہتر ہے۔ جیسے کسی مسکین یا غریب وغیرہ کی مدد کردے اور نیت اپنے فوتشدگان کو ایصال ثواب کی کرے۔ رہا سورہ فاتحہ یا دوسری عبادات کے ذریعے ایصال ثواب تو امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل رحمھما اللہ کے نزدیک مالی صدقہ کے علاوہ بدنی عبادات کا ثواب پہنچانا بھی مشروع ہے۔ اسلیے اسے ہم بدعت یا شرک وغیرہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بھی بہت سے آئمہ کا قیاس ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ اس سے پرہیز کیا جاۓ۔ واللہ اعلم
فی مجمع الزوائد و منبع الفوائد:
وعن عبادة بن الصامت قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من استغفر للمؤمنين والمؤمنات كتب الله له بكل مؤمن ومؤمنة حسنة۔ رواه الطبراني، وإسناده جيد۔
(کتاب التوبۃ باب الاستغفار لاھل الکبائر من المسلمین وما جآء فیھم)
فی الصحیح المسلم:
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ"۔
[صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2326]