جمع بین الصلوٰتین
#2کیا مقیم کے لیے بلا عذر ظہر ، عصر اور مغرب ،عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کرنا جائز ہے ؟
جی ہاں، اگر مقیم آدمی کسی حاجت کی وجہ سے بغیر بارش اور خوف کے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو اکٹھا کرتا ہے تو اس کے جواز میں گنجائش موجود ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں آتا ہے۔ بعض لوگ جمع بین الصلاتین کی حرمت پر ترمذی کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں جس میں بلا عذر نمازوں کو جمع کرنے کو کبیرہ گناہوں میں سے ایک شمار کیا گیا ہے جبکہ وہ حدیث ضعیف ہے- اسی طرح قرآن پاک سے اس کی حرمت پہ استدلال کرنا بھی صحیح نہیں کیونکہ قرآن مجید نمازوں کے اوقات کی تفصیل میں خاموش ہے اور صرف احادیث ہی اس کی کو واضح کرتی ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ اسے معمول بنا لینا درست نہیں، کیونکہ جن علماء نے بھی جمع کی اجازت دی ہے انہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جمع کو معمول بنا لینا جائز نہیں۔حتی کہ بعض شیعہ مجتھدین نے اس کو نقل کیا ہے کہ جمع بین الصلوتین صرف جواز کی حد تک ہے نہ کہ فضیلت۔ واللہ اعلم
فی الصحیح المسلم :
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ۔
[صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1629]
و فی السنن الترمذی:
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى , وَحَنَشٌ هَذَا هُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ , وَهُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ
[سنن ترمذی/كتاب الصلاة/حدیث: 188]
و فی الفتح الباری:
ذھب جماعۃ من الآئمۃ الی الاخذ بظاھر الحدیث فجوزوا الجمع فی الحضر للحاجۃ مطلقا لکن بشرط ان لا یتخذ ذلک عادۃ و ممن قال بہ ابن سییرین و ربیعہ و اشھب و ابن المنذر و القفال الکبیر و حکاہ الخطابی عن جماعۃ من اصحاب الحدیث
(تحت حدیث 543)
و فی القوانین الشریعۃ فی الفقہ الجعفریہ لآیت اللہ محمد حسین النجفی:
اصل اختلاف تو اس (جمع بین الصلاتین) کے جواز میں تھا چنانچہ شیعہ اسے جائز سمجھتے ہیں اور اہل سنت بلا ضرورت اسے ناجائز سمجھتے ہیں اور اس امر میں قطعا کوئ اختلاف نہیں ہے کہ ہر نماز کو اس کے افضل وقت میں علیحدہ علیحدہ پڑھنا افضل ہے
(صفحہ 237 جلد 1)