کونسے جانور کی قربانی درست نہیں
#107جانور کے وہ کونسے عیوب ہیں جن سے اسکی قربانی کرنا درست نہیں ہے؟
جانوروں کے عیوب جن سے قربانی درست نہیں رہتی اس کی فہرست تو کچھ لوگوں نے بہت لمبی بنائ ہے، لیکن صحیح اور سنت کے مطابق مسئلہ یہی ہے کہ چار عیب ایسے ہیں کہ جن کے ہونے کی وجہ سے اس کی قربانی کرنا درست نہیں۔ ایک یہ کہ وہ لنگڑا ہو اور اس کا لنگڑا ہونا واضح ہو، یا یہ کہ کانا ہو اور اسکا کاناپن بھی صاف ظاہر ہو، یا یہ کہ اتنا کمزور ہو کہ اس کے اندر کوئ مخ وغیرہ ہی نہ ہو، یا پھر یہ کہ اتنا بیمار ہو کہ ہر کسی کو اس کا بیمار ہونا پتا چلتا ہو۔ باقی کچھ اور عیوب کا بھی احادیث میں ذکر ملتا ہے لیکن وہ سب ضعیف ہیں، اسلیے ان سے اس حد تک تو مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے کہ ایسے جانوروں کی قربانی اگر کوئ ناپسند کرتا ہے تو وہ نہ کرے، لیکن ناجائز ہونے کی صورتیں وہی ہیں جو رسول اللہ علیہ السلام نے صراحتا بیان فرما دیں۔ واللہ اعلم
فی سنن ابی داؤد:
عن عبيد بن فيروز، قال: سألت البراء بن عازب ما لا يجوز في الأضاحي. فقال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصابعي أقصر من أصابعه، وأناملي أقصر من أنامله فقال: " أربع لا تجوز في الأضاحي - فقال -: العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكسير التي لا تنقى ". قال: قلت: فإني أكره أن يكون في السن نقص. قال: «ما كرهت فدعه ولا تحرمه على أحد» قال أبو داود: 'ليس لها مخ'۔
(کتاب الضحایا باب ما یکرہ من الضحایا)
فی نیل الاوطار:
قوله: (أربع لا تجوز) إلخ، فيه دليل على أن متبينة العور والعرج والمرض لا يجوز التضحية بها لا ما كان من ذلك يسيرا غير بين، وكذلك الكسير التي لا تنقي بضم التاء الفوقية وإسكان النون وكسر القاف، أي التي لا نقي لها بكسر النون وإسكان القاف، وهو المخ، وفي رواية الترمذي والنسائي: والعجفاء بدل الكسير۔
(کتاب المناسک ابواب الھدایا والضحایا باب مالا یضحی۔۔۔)