پاؤں پر مسح کرنا
#10کیا پاؤں پر مسح کرنا درست ہے؟ قرآن پاک کی وہ آیۃ جس میں وضو کا ذکر ہے اس کا صحیح مصداق کیا ہے؟
قرآن مجید کی جس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں وضو کے فرائض بتاۓ ہیں اس میں ایک قرأت تو مسح پر دلالت کرتی ہے لیکن اگر دوسری قرأت دیکھی جاۓ جو کہ ہمارے ہاں مروج ہے تو اس سے پاؤں دھونے کا ہی اشارہ ملتا ہے۔ عربی لغت کے لحاظ سے دونوں معنیٰ لینے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر چہ راجح اور بہتر یہی ہے کہ پاؤں کو دھویا جاۓ کیونکہ اس میں قرآن مجید کی بھی متابعت ہوجاتی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کثرت سے احادیث آئ ہیں ان کی بھی۔ باقی جو بندہ مسح کرتا ہے وہ بھی بے دین یا بدعتی ہرگز نہیں ہے کیونکہ حضرت علی وغیرہ کا مؤقف مسح کا بھی تھا۔ واللہ اعلم
فی القرآن الکریم:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِؕ۔
(سورہ مائدہ آیۃ 6)
فی المصنف لابن ابی شیبہ:
حدثنا ابن علية عن أيوب قال: رأيت عكرمة يمسح على رجليه، وكان يقول به۔
(کتاب الطھارۃ باب فی المسح علی القدمین)
فی مسند ابی داؤد الطیالسی:
سمعت النزال بن سبرة ، يقول: «صلى علي رضي الله عنه الظهر في الرحبة ثم جلس في حوائج الناس حتى حضرت العصر، ثم أتي بكوز من ماء، فصب منه كفا فغسل وجهه ويديه، ومسح على رأسه ورجليه، ثم قام فشرب فضل الماء۔
(احادیث علی بن ابی طالب رقم 141)
فی المحلیٰ لابن حزم:
وأما قولنا في الرجلين فإن القرآن نزل بالمسح۔۔۔وسواء قرئ بخفض اللام أو بفتحها هي على كل حال عطف على الرءوس: إما على اللفظ وإما على الموضع، لا يجوز غير ذلك. لأنه لا يجوز أن يحال بين المعطوف والمعطوف عليه بقضية مبتدأة۔
(کتاب الطہارۃ باب صفۃ الغسل الواجب مسألۃ الرجلان فی الوضوء)